تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
چالیس دن بیت گئے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ کربلا کی شام ابھی ڈھلی ہی نہیں۔ دشتِ نینوا کی ریت آج بھی سرخ ہے، فرات کی لہریں آج بھی تشنہ لب شہیدوں کا نوحہ پڑھتی ہیں، جلے ہوئے خیموں کی راکھ اب بھی ہواؤں میں بکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے، اور آسمان گویا اب تک اس ایک دن کے غم میں سیاہ پوش ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے عاشورا کا سورج ابھی افق کے کنارے خون میں ڈوبا ہو، نیزوں پر سجے مقدس سروں کا قافلہ ابھی نگاہوں سے اوجھل ہوا ہو، حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی پیاس کی صدائیں اب بھی ریگزارِ کربلا میں گونج رہی ہوں، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی للکار اب بھی ایوانِ یزید کی بنیادوں کو لرزا رہی ہو۔
یہ چالیس دن صرف دن نہیں تھے. یہ صبر کے چالیس باب تھے. یہ غم کے چالیس سمندر تھے. یہ اسیری کی چالیس راتیں تھیں. اور یہ وفا کی چالیس منزلیں تھیں۔
ان چالیس دنوں میں ایک ماں نے اپنے جوان بیٹے کا غم اٹھایا، ایک بہن نے اپنے بھائی کا کٹا ہوا سر نیزے پر دیکھا، ایک بیٹی نے باپ کی جدائی میں تڑپ کر سانسیں گنوائیں، اور ایک بیمار امام نے طوق و زنجیر میں بندھے ہوئے امامت کے چراغ کو بجھنے نہ دیا۔
پھر بیس صفر کی صبح طلوع ہوئی...
غم کی چالیس منزلیں طے کرنے کے بعد تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہوئی۔
روایت کے مطابق اسی روز رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفادار صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ساتھی عطیہ عوفی کے ساتھ کربلا پہنچے۔ انہوں نے فرات میں غسل کیا، خوشبو لگائی، لرزتے قدموں سے مزارِ حسینؑ کی طرف بڑھے، قبرِ اقدس کو اپنے سینے سے لگایا اور بے اختیار پکار اٹھے: یا حسین، یا حسین، یا حسین! حبیبٌ لا یجیبُ حبیبَه!
"اے میرے حبیب! کیا دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دیتا؟"
یہ کہتے ہی غم کی شدت سے بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو آنسوؤں کے ساتھ سلام پیش کیا، اور یوں عشقِ حسینؑ کی پہلی زیارت نے تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ کے لئے اپنا نام ثبت کر دیا۔
روایت کے مطابق قید خانہ شام سے رہائی پانے کے بعد حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور دیگر اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام بھی اسی روز کربلا پہنچے۔
وہی کربلا. وہی جلے ہوئے خیموں کی سرزمین. وہی ریت، وہی فرات. مگر اب حسینؑ کی آواز نہ تھی، عباسؑ جیسا وفادار علمدار نہ تھا، علی اکبرؑ کی اذان نہ تھی، علی اصغرؑ کی معصوم مسکراہٹ نہ تھی۔
صرف قبریں تھیں. خاموش قبریں. اور ان قبروں سے لپٹ کر روتے ہوئے اہلِ بیتؑ۔
زینبؑ اپنے بھائی کی قبر سے ہمکلام تھیں. امام زین العابدین علیہ السلام اپنے بابا کے مزار پر سر جھکائے کھڑے تھے اور دشتِ کربلا اشکوں، سسکیوں اور نوحوں سے گونج رہا تھا۔
مگر اس قافلے میں ایک ننھا سا چہرہ موجود نہ تھا۔
حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا قیدِ شام کی تاریک زندان میں اپنے بابا کی یاد میں تڑپتے تڑپتے شہادت پا چکی تھیں۔ دمشق کی مٹی نے اس معصوم شہزادی کو اپنی آغوش میں سلا لیا تھا۔
اس لئے جب اہلِ بیتؑ کربلا پہنچے تو بابا کے سینے پر سر رکھ کر سونے والی وہ ننھی کلی اس قافلے میں نہ تھی۔
شاید کربلا کی ہوا بھی اس ننھی شہزادی کو ڈھونڈ رہی تھی. شاید فرات کی موجیں اس کی آواز سننا چاہتی تھیں. اور شاید امام حسین علیہ السلام کی قبر کے قریب کھڑی زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے دل میں یہ کسک بار بار اٹھتی تھی کہ کاش سکینہؑ بھی آج اپنے بابا کی قبر پر حاضر ہوتی۔
چالیس دن گزر گئے. مگر کربلا کا غم ختم نہ ہوا۔
کیونکہ کربلا ایک دن کا واقعہ نہیں، قیامت تک زندہ رہنے والی حقیقت ہے۔
یہ وہ چراغ ہے جسے نیزے بجھا نہ سکے، یہ وہ صدا ہے جسے تلواریں خاموش نہ کر سکیں، یہ وہ پیغام ہے جسے قید و بند مٹا نہ سکے۔
اسی لئے اربعین ہر سال آتا ہے تاکہ دنیا کو یاد دلائے کہ شہید مر کر بھی زندہ رہتے ہیں، ظلم جتنا بھی طاقتور ہو اس کی عمر محدود ہوتی ہے، مگر حسینؑ کا پیغام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
اربعین شہادت کے بعد زندگی کی فتح کا نام ہے. اربعین اسیری کے بعد عزت کی معراج کا نام ہے. اربعین زینبؑ کے صبر، سجادؑ کی استقامت، جابر کی وفاداری اور حسینؑ کے ابدی پیغام کی تجدید کا نام ہے۔
سلام ہو حسینؑ پر...
سلام ہو عباسؑ پر...
سلام ہو زینبؑ پر...
سلام ہو سجادؑ پر...
سلام ہو کربلا کے ہر اس شہید پر جس نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ سر کٹ سکتا ہے، مگر حق کبھی نہیں جھکتا۔









آپ کا تبصرہ